مفکر مجازی کا پیغام قائد قوم ملت کے نام
مفکر
مجازی کا پیغام قائد قوم ملت کے نام
از ۔ابو الفکر مظفرپوری
نحمدہ
ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم
یوں تو عوج و ثریا پر ہر کوئی فائز ہونا چاہتا ہے لیکن اس منزل کو
نادر لوگ ہی طے کر پاتے ہیں اور س کے پیچھے ان کی کوششیں اور لگن ہوتی ہیں، اور
بڑے بزرگ کی حوصلہ افزائی ۔
ہم آج بات کریں گے صرف بڑے بزرگ کی حوصلہ افزائی کے تعلق سے۔ کیوں کہ
جس قوم کا قائد ہی نیند کے آغوش میں ہوں وہ قوم مردہ سے کم نہیں ہوا کرتی۔
تو ضرورت اس بات کی ہوئی کہ ہم ان کو نیند کے آغوش سے عالم حاضرہ کی طرف ایقاظ کرے
اس کے لئے اب ہم اپنے افکار و نظریات کو اسلاف کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کرتے
ہیں۔ سرکار علیہ الصلوۃ والسلام غم امت میں رویا کرتے تھے پھر دور صحابہ
کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین قیادت میں خلفائے اربعہ مشہور تھے، پھر حضرت
ابوعبیدہ ابن جراح و خالد بن ولید رضی
اللہ تعالیٰ عنہما۔ ان حضرات کے صرف ایک بیان سے قوم میں جولانی کیفیت اور جبل استقامت
عدو کے سامنے سینہ سپر رکھتی تھی۔
کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اکناف عالم میں آج اسلام لہلہاتا ہوا نظر آرہا
ہے۔ یہ وہی قائد کا نتیجہ ہے جو اپنے قوم میں خطاب کرتی تو صرف60 اسلام کے
سپہ سالار 60,000 کے مقابلے میں دشمنان اسلام سے ٹکرا جاتے تھے۔ یہ بیان کا اثر
تھا۔ پھر سے ہمیں ایسے کلیم ضرورت ہے جس کا انداز تکلم دلفریب ہو۔ تاکہ قوم کو
جھنجوڑ سکے۔
کما
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إنَّ مِن البيانِ لَسِحْرًا
جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا:بے شک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔
دراصل ہم نے قیادت کی تاریخ کو بھلا دیا ہے۔ یاد رکھیں جو قوم اپنی
تاریخ کو بھلا دے تو وہ تنزلی و تباہی کے عمیق گڈھے میں گر جاتی ہیں۔
لہذا اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو یاد کرے اور پھر
اسے دہرائیں۔کیونکہ عصر حاضر میں اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ورنہ یاد رکھے علامہ
اقبال کی زبان میں۔
نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں
آئیے آج ہم عزم کرتے ہیں کہ اپنے قوم و ملت کو بیدار کریں گے اور اسے
بتائیں گے علامہ اقبال کی زبان میں ؎
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر،
تو شاہین ہے پرواز کر پہاڑوں کی چٹانوں پر ۔
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب،
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے۔
15 August 2019
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں