ہم آج بھی غلام ہے
ہم آج بھی غلام ہے
از۔ابو الفکر مظفرپوری
ہمارا ملک ہندوستان 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا تھا اور آزادی کے لیے ہم نے لاکھوں قربانیاں دى. اس قربانی میں کوئی ایک مذہب یا نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ نہیں تھے بلکہ ہند کے وہ سب لوگ شامل تھے جو آزادی کے خواہاں تھے.
ایک شاعر کہتا ہے کہ-
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں،
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے۔
بہرکیف عرض کرنے کا مقام یہ ہے کہ ہمارا ملک جسے جمہوری ملک کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ کچھ عرصہ سے جمہوری نہیں بلکہ تاناشاہی کا شکار نظر آرہی ہے۔یہ اسی طرح جس طرح دور فرنگی میں کوئی فرنگیوں کے خلاف آواز اٹھاتا تو اسے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا تھا،کسی کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ، کسی کو سیلولر جیل کے کال کوٹھڑی میں ڈال دیا جاتا۔ آج کیا ہو رہا ہے اگر کوئی حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے تو اسے یرغمال بنا کر بیٹھا دیا جاتا ہے کسی کو جان سے مار دیا جاتا ہے کسی کو پاکستان بھیجنے کی بات کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ یہاں سارے حالات کو انحصار کرنا فی الحال ممکن نہیں۔
مذکورہ صورتوں میں اقوام ہند کا یہ عالم ہے اب ہم چلتے ہیں میڈیا کے جانب یہ تو غلامی میں سر فہرست نظر آتے ہیں میڈیا ایک ایسا نظام ہے جس کے ذریعے لوگوں کے افکار و نظریات پر حملہ کیا جارہا ہے اور لوگوں میں ایک دوسرے کے خلاف miss conception کے عمیق دنیا میں ڈالا جارہا ہے۔ جس سے لوگ اندھے اور بہرے بن جاتے ہے جس سے وہ فعل صدور ہوتے ہیں جس کا ہم غمان نہیں کر سکتے۔ آج کے دور میں ایسے لوگوں کو "اندھ بھکت" کہا جاتا ہے.
اس کا حل یہ ہے کہ جس کی جو ذمہ داری ہے وہ اپنے زمہ داری کا حق ادا کریں جیسے میڈیا اپنے معاملات کو صحیح کرے، Journalist اپنے journalism کا حق ادا کرے، قوم اپنی زندہ دلی کا ثبوت دے کر ہندوستان کو ایک قوی اور مستحکم ملک بنائے تاکہ پھر یہ سونے کی چڑیا کہلانے والی از سرے نو ابھر کر آئے۔
اب ہم سربراہان ہند کی طرف نظر ڈالتے ہیں اس کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں کہ جب کوئی بچہ غلطی کرتا ہے تو وہ غیر کا تابع ہو جاتا ہے اور وہ اپنے جرم کو چھپانے کے لیے نہ جانے کتنے جرائم کی مشین بن جاتا ہے ٹھیک اسی طرح ہمارے ملک ہند میں آج تقریباً 50 فیصد وزراء کرائم میں ملوث نظر آتے ہیں جبکہ کرپشن تو عام ہے۔جب ہمارا جمہوری نظام ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہوگا وہاں انصاف کا بول بالا نہیں بلکہ انصاف کا خون ہوگا اور نظام درہم برہم ہو جائے گا اور ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف بڑھتا ہی جائے گا۔
حد تو یہ ہوگی کہ ہم پوری 1.25 کروڑ آبادی والی ہو کر بھی اقوام متحدہ کا رکن نہیں مطلب یہ ہے کہ یہ پانچ رکنی مجلس جو طے کرلے وہی سارے ملک کے حق میں مانا جائے گا یہ کہاں کا نظام ہے یہ تو غلامی ہے۔ہم تو لین دین میں بھی فرنگیوں کے غلام ہے حد ہوگی ہم پوری دنیا میں جمہوریت کا شور مچاتے ہیں لیکن ان سارے معاملات میں غلامی کر رہے ہیں۔
ایک مرتبہ ہم غلامی کو مستحضر کرنے کی کوشش کرتے ہیں یاد رہے ہم اس غلامی کی بات کر رہے ہیں جہاں لوگوں کے حقوق ختم ہوتے نظر آرہے ہیں اور ناانصافی نظر آتی ہے:-
1. بچہ اپنے گھروں میں غلام
2. گاؤں کے دیہاتی اپنے مکھیاں کاغلام
3.ضلع کے لوگ DM کا غلام
4. پولیس والے اپنی DSP اور DIG کا غلام
5.صوبہ کے لوگ اپنے وزراء اور وزیراعلیٰ کا غلام
6. تمام وزراء اعلی اپنے وزیراعظم کا غلام
7. تمام وزراء اعظم پانچ رکنی مجلس کا غلام
8.اقوام متحدہ امریکہ اور اسرائیل کا غلام
9. اور یہ دونوں اپنے نفس کا غلام ہے.
امریکا اور اسرائیل خود ایسے ملک ہے جو پوری دنیا میں انصاف و امن کا نعرہ لگاتے ہیں اور اس کے پیچھے آتنک کو فروغ دیتے ہیں جیسا کہ امریکہ کہتا ہے دوسرے ممالک سے تم Nuclear نہیں بنا سکتے جبکہ خود سب سے بڑا نہ Nuclear پاور ہے
کہتا ہے تم Weapons نہیں بنا سکتے ہو اور نہ ہی Sell کرسکتے ہو جب کہ سب سے زیادہ امپورٹ ایکسپورٹ کا کام اسی کے سر پر۔
بہرکیف مسلمانوں کے لئے دعوت عام یہی ہے کہ وہ نفس کے غلام اور لوگوں کے غلام ہونے کے بجائے قرآن وسنت کے موافق اپنی زندگی کو ڈھال لیں اور سرکار کی غلامی اور اولیائے کرام کی غلامی میں زندگی کو گزارے۔
15 August 2019.
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں