اشاعتیں

اگست, 2019 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مفکر مجازی کا پیغام قائد قوم ملت کے نام

مفکر مجازی کا پیغام  قائد قوم  ملت کے نام از ۔ابو الفکر مظفرپوری   نحمدہ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم یوں تو عوج و ثریا پر ہر کوئی فائز ہونا چاہتا ہے لیکن اس منزل کو نادر لوگ ہی طے کر پاتے ہیں اور س کے پیچھے ان کی کوششیں اور لگن ہوتی ہیں، اور بڑے بزرگ کی حوصلہ افزائی ۔ ہم آج بات کریں گے صرف بڑے بزرگ کی حوصلہ افزائی کے تعلق سے۔ کیوں کہ جس قوم کا قائد ہی نیند کے آغوش میں ہوں وہ قوم مردہ سے کم نہیں  ہوا کرتی۔ تو ضرورت اس بات کی ہوئی کہ ہم ان کو نیند کے آغوش سے عالم حاضرہ کی طرف ایقاظ کرے اس کے لئے اب ہم اپنے افکار و نظریات کو اسلاف کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سرکار علیہ الصلوۃ والسلام  غم امت میں رویا کرتے تھے پھر دور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین قیادت میں خلفائے اربعہ مشہور تھے، پھر حضرت ابوعبیدہ ابن جراح و خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہما ۔ ان حضرات کے صرف ایک بیان سے قوم میں جولانی کیفیت اور جبل استقامت عدو کے سامنے سینہ سپر رکھتی تھی۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اکناف عالم میں آج اسلام لہلہاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ یہ وہی قائد کا نتیجہ ہے ج...

ہم آج بھی غلام ہے

ہم آج بھی غلام ہے از۔ابو الفکر مظفرپوری  ہمارا ملک ہندوستان 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا تھا اور آزادی کے لیے ہم نے لاکھوں قربانیاں دى. اس قربانی میں کوئی ایک مذہب یا نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ نہیں تھے بلکہ ہند کے وہ سب لوگ شامل تھے جو آزادی کے خواہاں تھے.  ایک شاعر کہتا ہے کہ- سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں،  کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے۔  بہرکیف عرض کرنے کا مقام یہ ہے کہ ہمارا ملک جسے جمہوری ملک کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ کچھ عرصہ سے جمہوری نہیں بلکہ تاناشاہی کا شکار نظر آرہی ہے۔یہ اسی طرح جس طرح دور فرنگی میں کوئی فرنگیوں کے خلاف آواز اٹھاتا تو اسے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا تھا،کسی کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ، کسی کو سیلولر جیل کے کال کوٹھڑی میں ڈال دیا جاتا۔ آج کیا ہو رہا ہے اگر کوئی حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے تو اسے  یرغمال بنا کر بیٹھا دیا جاتا ہے کسی کو جان سے مار دیا جاتا ہے کسی کو پاکستان بھیجنے کی بات کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ یہاں سارے حالات کو انحصار کرنا فی الحال ممکن نہیں۔  مذکورہ صورتوں میں اقوام ہند کا یہ عالم ہے اب ہم چلتے ہیں م...